بریکنگ نیوز
Loading news...
frint super lead lead 01 03 04 06 10

شادی کی تیاریاں زوروں پر، وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا نے غیر ملکی سکیورٹی ہائر کرلی

 شادی کی تیاریاں زوروں پر، وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا نے غیر ملکی سکیورٹی ہائر کرلی

بالی وڈ اداکار وجے دیوراکونڈا اور اداکارہ رشمیکا مندانا نے اپنی شادی کیلئے سکیورٹی کی خدمات بیرون ملک سے حاصل کرلیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وجے دیوراکونڈا اور اداکارہ رشمیکا مندانا کی شادی رواں ماہ کی 26 تاریخ کو ادے پور میں ہوگی، یہ ایک ڈیسٹینیشن ویڈنگ ہے جہاں بہت سی مشہور شخصیات بھی شادی کر چکی ہیں۔

شادی کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ یہ بہت نجی تقریب ہوگی جس میں صرف جوڑے کے دوست اور قریبی رشتہ دار شامل ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ادے پور میں اداکار جوڑی کی شادی ایک بڑے رقبے پر ہوگی جس کیلئے جوڑے کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظام کیے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اداکار جوڑی کی جانب سے بیرون ملک سے سکیورٹی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو راجستھان کے مقامی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ادے پور میں شادی کے بعد 4 مارچ کو حیدرآباد دکن میں وجے اور رشمیکا کی جانب سے فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے لیے ایک شاندار استقبالیہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وجے اور رشمیکا نے گزشتہ سال 3 اکتوبر کو منگنی کی تھی اور حال ہی میں اداکار کی شادی کا کارڈ بھی منظر عام پر آیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے باوجود بڑا اقدام: ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا

 عدالتی فیصلے کے باوجود بڑا اقدام: ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا



✍️ شعہ (مختصر تعارف) 

واشنگٹن میں امریکی صدر نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دنیا بھر کے ممالک پر تجارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے عالمی ٹیرف میں اضافہ کر دیا، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کئی ممالک دہائیوں سے امریکا کا استحصال کر رہے ہیں، نئی قانونی اور قابلِ اجازت ڈیوٹیز آئندہ مہینوں میں مزید متعارف کرائی جائیں گی۔

 

پنجاب میں قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ، ہر ضلع میں پراپرٹی ٹریبونل قائم کرنے کا فیصلہ

پنجاب میں قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ، ہر ضلع میں پراپرٹی ٹریبونل قائم کرنے کا فیصلہ


پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس پنجاب اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔ آرڈیننس کے مطابق ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی جو ریکارڈ کی جانچ اورفریقین کے بیانات قلمبند کرے گی۔

مصالحت یا صلح کی صورت میں تحریری معاہدہ ٹریبونل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، غیر قانونی قبضے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا قید یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ 

ترمیمی آرڈیننس کے مطابق جعلسازی، دھوکہ دہی، جبر یا طاقت کے ذریعے قبضہ بھی جرم تصور ہوگا، جرم میں معاونت، سہولت کاری یا سازش پر ایک سے 3 سال قید کی سزا ہوگی، قبضے کی معاونت پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ 

غیرقانونی قبضہ قابل سزا جرم قرار ہوگا جس کی سزا 5 سے 10 سال قید ہوگی۔

آرڈیننس کے تحت مالک براہ راست متعلقہ ٹریبونل میں شکایت دائر کر سکے گا، تین دن کے اندر معاملہ اسکروٹنی کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو 30 دن میں رپورٹ ٹریبونل کو پیش کرنے کی پابند ہو گی جسے ملکیت کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار دیا گیا ہے۔

جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایت کرنے والے کو ایک سے 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

ترمیمی آرڈیننس کے مطابق ٹریبونل مقدمات کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا پابند ہوگا، مقدمات کی روزانہ بنیاد پر سماعت ہوگی، قانونی مالک کو فوری قبضہ دلانے کا حکم دیا جائے گا، پولیس اور دیگر سرکاری ادارے قبضہ ختم کرانے میں معاونت کے پابند ہوں گے، شکایت دائر ہونے کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی کالعدم تصور ہوگی۔

مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران کسی بھی قسم کی الاٹمنٹ، گفٹ یا لیز پر پابندی ہوگی۔

ترمیمی آرڈیننس میں "ملزم" کی تعریف میں کمپنی، ادارہ، ٹرسٹ، سوسائٹی اور دیگرادارے بھی شامل کردیے گئے، کسی ادارے کے ذمہ دارافسران، ڈائریکٹرز، پارٹنرز اور بینیفشل اونرزبھی قانون کے دائرے میں آئیں گے، ڈسپیوٹ ریزولوشن" کی جگہ "اسکروٹنی" کا لفظ شامل کردیا گیا جبکہ جج سے مراد اب ٹریبونل کا نامزد پریزائیڈنگ افسر ہوگا، ہرضلع میں پنجاب پراپرٹی ٹریبونل کا قیام کیا جائے گا، ایڈیشنل سیشن جج ، ٹریبونل جج ہو گا۔

معذوری نہیں، امتیازی سلوک اصل رکاوٹ ہے

 معذوری نہیں، امتیازی سلوک اصل رکاوٹ ہے

شمولیت، رسائی اور مساوی مواقع کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے

تحریر: رحمت علی


فوکل پرسن برائے بصارت سے محروم افراد، ضلع کوٹ ادو
کسی بھی ریاست اور معاشرے کی اصل پہچان اس کی سڑکوں، عمارتوں یا ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور محروم طبقات کو کس قدر عزت، برابری اور مواقع فراہم کرتا ہے۔ معذور افراد بھی اسی معاشرے کا قابلِ احترام، باصلاحیت اور فعال حصہ ہیں۔ ان کے خواب، ان کی محنت، ان کی ذہانت اور ان کا عزم کسی طور کم تر نہیں۔ اگر ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہے تو وہ معذوری نہیں بلکہ امتیازی رویّے اور غیر مساوی نظام ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معذوری انسان کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتی۔ تاریخ اور موجودہ دور اس امر کے گواہ ہیں کہ معذور افراد نے تعلیم، تحقیق، ادب، سرکاری خدمات، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے بجائے ترحم یا نظرانداز کرنے کا رویّہ اختیار کرتا ہے۔
اصل رکاوٹ وہیل چیئر یا سفید چھڑی نہیں۔ اصل رکاوٹ وہ سوچ ہے جو معذور فرد کو کمزور یا محتاج سمجھتی ہے۔ جب سرکاری و نجی عمارات قابلِ رسائی نہ ہوں، جب تعلیمی اداروں میں جامع تعلیم کا نظام مؤثر نہ ہو، جب امتحانات میں مناسب سہولیات میسر نہ ہوں اور جب ملازمتوں میں برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہ سب عوامل مل کر معذور افراد کو عملی زندگی میں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معذوری کو ہمدردی یا خیرات کے زاویے سے نہیں بلکہ حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے۔ معذور افراد کو خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوی اور منصفانہ مواقع درکار ہیں۔ ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، بلدیاتی ڈھانچے اور نجی شعبے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو قابلِ رسائی بنائیں، پالیسی سازی میں شمولیت کو یقینی بنائیں اور ترقی کے تمام مراحل میں برابری کا اصول اپنائیں۔
معاشی نقطۂ نظر سے بھی معذور افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ جو معاشرہ اپنی افرادی قوت کے کسی حصے کو نظرانداز کرتا ہے وہ دراصل اپنی مجموعی ترقی کو محدود کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ہر فرد کی صلاحیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو معاشرہ مضبوط، خود کفیل اور متوازن بنتا ہے۔
آج ہمیں اپنے اجتماعی رویّوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ منفی سوچ کو مثبت فکر میں بدلنا ہوگا، تعصبات کو شعور اور آگاہی سے ختم کرنا ہوگا اور عملی اقدامات کے ذریعے رسائی اور شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ جامع تعلیم، مساوی روزگار اور باوقار شرکت ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک حقیقی فلاحی اور منصفانہ معاشرہ استوار ہو سکتا ہے۔
صلاحیت ہر فرد میں موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مواقع بھی ہر فرد کو یکساں فراہم کیے جائیں۔ جب امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوگا تو نہ صرف معذور افراد بلکہ پورا معاشرہ ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، اور یہی ایک باوقار، منصف اور باشعور ریاست کی حقیقی پہچان ہے۔

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: پاکستان قومی کرکٹ ٹیم بمقابلہ نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم میچ پر بارش کے بادل، مقابلہ متاثر ہونے کا خدشہ

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: پاکستان قومی کرکٹ ٹیم بمقابلہ نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم میچ پر بارش کے بادل، مقابلہ متاثر ہونے کا خدشہ

کولمبو:  آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر8 مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ میں بارش کا امکان ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سپر 8 مرحلے میں کل بروز ہفتہ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم  میں آمنے سامنے ہوں گی۔ 

شائقین کرکٹ اس مقابلے کو ایک سنسنی خیز میچ قرار دے رہے ہیں، تاہم سری لنکا میں جاری دیگر مقابلوں کی طرح اس میچ پر بھی بارش کا شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔

موسمی پیشگوئی کے ادارے AccuWeather کے مطابق کولمبو میں کل بارش کا 74 فیصد امکان ہے جبکہ تیز ہوائیں چلنے کی بھی پیشگوئی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 میچز کے لیے کوئی ریزرو ڈے مختص نہیں کیا گیا۔ 

اگر بارش کے باعث دونوں ٹیمیں کم از کم فی اننگز 5 اوورز بھی نہ کھیل سکیں تو میچ منسوخ  ہوگا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا جائے گا۔

غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس اور فلسطینی عوام کا المیہ.؟؟

 غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس اور فلسطینی عوام کا المیہ.؟؟


غلام مصطفیٰ جمالي

زہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس ایک ایسا عالمی سیاسی واقعہ ہے جو دنیا کے سامنے فلسطینی عوام کے المیے اور انسانی بحران کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ غزہ پٹی گزشتہ دہائیوں سے جنگ، محاصرے اور انسانی المیے کا شکار رہی ہے۔ ہزاروں مرد، عورتیں اور بچے شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اور اسپتال اور اسکول تباہ ہو گئے ہیں۔ اس پس منظر میں جب عالمی طاقتوں کا اجلاس ہوتا ہے تو یہ دنیا کے ضمیر کے لیے ایک امتحان بن جاتا ہے۔اجلاس میں عالمی رہنما جمع ہوئے، امن اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا گیا اور سیاسی حل پر گفتگو کی گئی۔ لیکن فلسطین کا مسئلہ صرف امداد سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ امداد زخم پر عارضی پٹی تو باندھ سکتی ہے، لیکن اگر قبضہ، آبادکاری اور سیاسی ظلم کے بنیادی اسباب ختم نہ کیے گئے تو خون رُک نہیں سکے گا۔ غزہ میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کے بیانات اور وعدے عملی طور پر ان کی تقدیر بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔آخرکار یہ واضح ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف مقامی یا علاقائی نہیں، بلکہ عالمی انصاف کا سوال ہے۔ جب طاقتور ممالک اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں تو مظلوم قوم کے حقوق نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ عالمی طاقتوں اور سیاسی مفادات کی سیاست میں چھوٹے ممالک کی آواز زیادہ وزن نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے ایسے اجلاس اکثر نتائج خیز ثابت نہیں ہوتے۔غزہ امن بورڈ کا اجلاس ایک موقع ہے کہ عالمی برادری اپنے مفادات ایک طرف رکھ کر انسانی بنیادوں پر فیصلے کرے۔ اگر امریکہ اور دیگر طاقتور ممالک واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا، جنگ بندی کروانی ہوگی اور فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کرانا ہوگا۔ صرف بیانات سے تاریخ نہیں بدلتی، بلکہ عملی اقدامات سے فلسطین کے المیے کو کم کیا جا سکتا ہے۔فلسطین کا مسئلہ اچانک پیدا ہونے والا تنازعہ نہیں، بلکہ یہ تاریخی ناانصافیوں، سامراجی پالیسیوں اور طاقت کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ 1917 میں بلفور اعلامیہ کے بعد فلسطین میں یہودی آباد کاری کو سرکاری حمایت ملی، جس سے مقامی فلسطینی آبادی کے حقوق متاثر ہوئے۔ 1947 میں اقوام متحدہ کی تقسیم کی قرارداد کے بعد متنازعہ علاقوں میں رہنمائی کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل قائم ہوا، اور لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے۔1948 اور پھر 1967 میں عرب-اسرائیل جنگوں نے غزہ اور ویسٹ بینک کو سیاسی اور فوجی طور پر غیر مستحکم کر دیا۔ غزہ پٹی میں رہنے والے عام لوگوں کی زندگی مسلسل جنگ، محاصرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار رہی ہے۔ آج بھی غزہ میں رہنے والے لوگ آزادی اور تحفظ کا بنیادی حق حاصل نہیں کر پاتے، ایک ایسی زندگی جو مسلسل خوف اور نامعلوم مستقبل کے خوف میں گزرتی ہے۔غزہ پٹی میں تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی سہولیات تقریباً تباہ ہو چکی ہیں۔ بچے تعلیم جاری رکھنے کی بجائے محفوظ ماحول کی تلاش میں ہیں، اور والدین کو روزانہ کی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے خوراک اور حفاظت فراہم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں، جبکہ بزرگ افراد کو طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انسانی المیے کا یہ منظر عالمی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے، لیکن اکثر عالمی طاقتیں صرف بیانات اور وعدوں تک محدود رہتی ہیں۔امریکہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی اور سفارتی حامی رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قراردادیں ویٹو کے استعمال سے بار بار روکی گئی ہیں، جس سے عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے اقدامات میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ جب ایک ہی ملک امن کے لیے اجلاس کی میزبانی کرتا ہے، لیکن عملی پالیسیوں کے ذریعے ایک فریقانہ موقف اختیار کرتا ہے، تو اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔جب عالمی طاقتیں امن کے بارے میں بیانات جاری کرتی ہیں تو فلسطینی عوام کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں بھی واضح موقف لینا ضروری ہے، لیکن اکثر پالیسیاں طاقتور مفادات پر مبنی رہتی ہیں۔ کئی مبصر کہتے ہیں کہ عالمی طاقتیں یا تو اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں یا انسانی حقوق کو ـــ دونوں کو ایک ساتھ نہیں رکھتیں۔فلسطینی عوام کے کرب اور درد کا اندازہ صرف اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ انسانی کہانیوں، روزمرہ زندگی کی مشکلات اور خاندانوں کی ٹوٹی ہوئی امیدوں میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہر روز غزہ میں رہنے والے ایک خاندان کے لیے نیا امتحان ہوتا ہے ـــ کیا صبح ہونے والی بمباری سے بچ پائیں گے؟ کیا بچوں کو اسکول بھیج سکیں گے؟ کیا انہیں صاف پانی، خوراک اور طبی مدد مل پائے گی؟پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک اجلاس میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جنگ بندی اور انسانی امداد پر زور دیا۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے، اور یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ مظلوم قوم کی حمایت جاری رکھی جائے۔ کئی اسلامی ممالک میں عوام فلسطین کے مسئلے پر گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کا موقف واضح ہے: فلسطینیوں کو حق خود ارادیت اور آزادی فراہم کی جائے۔اسلامی دنیا کا اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی فلسطین کے لیے مؤثر سفارتی طاقت بن سکتی ہے، لیکن داخلی اختلافات اور مفادات کی سیاست کی وجہ سے یہ طاقت اکثر محدود رہتی ہے۔ جب اسلامی ممالک میں سیاسی اتحاد اور اقتصادی مشترکہ اقدامات کے لیے حقیقی عمل نہیں ہوتا، تو عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے میں کم اثر پڑتا ہے۔فلسطین کا حل صرف سیاسی اور فوجی مفادات کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کی بنیاد پر ممکن ہے۔ عالمی طاقتیں اگر اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر عملی اقدامات میں شامل ہوں، اسرائیل پر مناسب دباؤ ڈالیں، آباد کاری روکیں، انسانی امداد کے لیے راستے کھولیں اور دو ریاستی حل کی حمایت کریں تو شاید امن کا خواب حقیقت بن سکے۔ صرف امن کے بارے میں بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمی رہنما جمع ہوئے، امن اور امداد پر بات کی، مالی پیکج کا اعلان کیا، لیکن اصل امتحان ابھی شروع ہوا ہے ـــ کیا فوری جنگ بندی ہوگی؟ کیا آباد کاری روکی جائے گی؟ کیا سیاسی بات چیت کو حقیقی رفتار ملے گی؟ اگر ان سوالوں کے جوابات مثبت نہ ہوئے تو اجلاس بھی ماضی کی ملاقاتوں کی طرح صرف ایک تاریخی نوٹ بن جائے گا۔فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ غزہ میں رہنے والے بچے، مائیں اور بزرگ عالمی ضمیر کو پکار رہے ہیں۔ اگر طاقتور ممالک اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر فیصلے کریں، تب ہی امن کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور سیاسی برادری یہ ثابت کریں کہ فلسطین کا درد ان کے لیے اہم ہے ـــ صرف الفاظ اور نعروں سے نہیں، بلکہ عملی، منظم اور متوازن اقدامات سے۔آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ حمایت صرف بیانات اور نعروں سے مکمل نہیں ہوتی۔ عالمی سطح پر منظم سفارتی، سیاسی، انسانی اور اخلاقی جدوجہد ہی صورتحال بدل سکتی ہے۔ اگر عملی اقدامات کیے گئے تو یہ ایک مثبت موڑ ثابت ہوگا، اور اگر صرف الفاظ تک محدود رہا تو فلسطین کا درد ویسا ہی جاری رہے گا۔


گیس سیکٹر بحران کا شکار: قومی خزانے کو 60 ارب نقصان، گردشی قرض 3283 ارب تک پہنچ گیا

گیس سیکٹر بحران کا شکار: قومی خزانے کو 60 ارب نقصان، گردشی قرض 3283 ارب تک پہنچ گیا



You said:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سوئی گیس کمپنیوں میں گیس چوری اور لیکج سے قومی خزانے کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت ہوا، جس میں رکن کمیٹی گل اصغر خان نے دونوں گیس کمپنیوں (ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی) کی نجکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنا سرکار کا کام نہیں۔ گل اصغر خان نے کہا کہ دونوں گیس کمنیوں کے سالانہ 60 ارب روپے کے نقصانات کو ئی چھوٹی بات نہیں، یہ بوجھ عوام برداشت کرتے ہیں۔ ایم ڈی سوئی ناردرن عامر طفیل نے بتایا کہ سوئی ناردرن کے گیس نقصانات لیکج اور چوری 5.27 فیصد جو اوگرا کے اہداف سے بھی کم ہیں اور موجودہ گیس نقصانات کا گیس تخمینہ 30 ارب روپے سالانہ ہے۔ سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت کے مطابق ان کےسوئی سدرن کمپنی کے سالانہ نقصانات بھی 30 ارب روپے ہیں جنہیں 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لائے ہیں۔ رکن کمیٹی سید نوید قمر نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھ رہا ہے، اس طرح تو گیس کمپنیاں تباہ ہو جائیں گی، جس پر ڈی جی گیس نے بتا یا کہ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرض 3283 ارب روپے ہے، جس میں 1452 ارب لیٹ پیمنٹ سرچارجز شامل ہیں۔ ڈی جی گیس نے مزید کہا کہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور کوٹلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں لیتھیم کے ذخائر کی نشاندہی ہو ئی ہے۔ مزید براں اجلاس میں آئندہ مالی سال کیلئے پیٹرولیم ڈویژن کے اداروں کیلئے 4 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

Our Team

Loading Team...