احمد پور شرقیہ میں میڈیا کلب کے زیر اہتمام فری میڈیکل و آئی کیمپ کا انعقاد 25 اپریل کو ہوگا
01
ڈیڑھ ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات پر 180 ارب روپے اضافی لیوی وصول کی گئی
ڈیڑھ ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات پر 180 ارب روپے اضافی لیوی وصول کی گئی
گزشتہ مالی سال کے مقابلے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 400 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق صرف مارچ 2026 میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 52 ارب روپے اضافی لیوی وصول کی گئی۔
صارفین سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات پر 180 ارب روپے اضافی لیوی وصول کی گئی۔ جولائی سے اپریل کے وسط تک ایک ہزار 234 ارب روپے لیوی لی گئی۔
خودکو عبد الرزاق یا اظہر محمود کے قریب سمجھتا ہوں نہ ہی ان سے دور: فہیم اشرف
خودکو عبد الرزاق یا اظہر محمود کے قریب سمجھتا ہوں نہ ہی ان سے دور: فہیم اشرف
اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل راؤنڈر فہیم اشرف نے کہا وہ خود کو عبد الرزاق یا اظہر محمود کے قریب سمجھتے ہیں نہ ہی ان سے دور۔
کراچی کنگز کے خلاف فتح کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں فہیم اشرف ہوں، میں عبد الرزاق یا اظہر محمود نہیں بن سکتا، جو آج تنقید کرتے ہیں ماضی میں بھی ایسے ہی تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو سپورٹ کریں تاکہ آنے والے بچے کرکٹ کا سوچیں، ہمیں آپس میں ایک دوسرے سے نفرتیں کم کرنا ہوں گی، دوستی یاری سے بالا ہوکر سوچنا ہوگا۔
فہیم اشرف نےسمیر منہاس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سمیر منہاس ایک سمجھ دار کھلاڑی ہے اور انہوں نے آج شاندار بیٹنگ کی ہے۔
پی ایس ایل11: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو با آسانی 8 وکٹوں سے شکست دےدی
پی ایس ایل11: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو با آسانی 8 وکٹوں سے شکست دےدی
کراچی: پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) 11 میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو 8وکٹوں سے شکست دے کر ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کرلی۔
کراچی میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
کراچی نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 150 رنز اسکور کیے۔ ریزا ہینڈرکس 51 ، جیسن روئے 39 اور اعظم خان 34 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔
جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے 151 رنز کا ہدف 16 اوورز میں 2 وکٹ کے نقصان پرحاصل کرلیا۔سمیر منہاس نے 58 رنز بنائے، ڈیون کونوے نے 53 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
اسٹیٹ بینک نے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار جاری کر دیئے
اسٹیٹ بینک نے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار جاری کر دیئے
اسلام آباد: اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت کے حوالے سے اہم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک ماہ میں 363 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب 7 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔ جبکہ مارچ 2025 میں یہ سرپلس ایک ارب 27 کروڑ ڈالر تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس ہو گیا۔ جبکہ اس سے قبل پہلے 8 ماہ میں یہ 89 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا۔
لاوارث بچی
لاوارث بچی
باباجی میں نے بچپن سے ایک ہی بات سنی تھی نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے محبوب ہیں رب کریم نے کائنات تخلیق ہی اپنے محبوب کے لیے کی تھی پھر اپنے محبوب کو سرتاج الانبیا ﷺ بنا کر آخر میں دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا مکہ میں جب میری دعا قبول نہ ہوئی تو اب میں مدینہ شریف کی طرف جانے لگا وہ مدینہ شریف جس کی خاک کے ذرات بھی آسمانی کہکشاں سے زیادہ روشن اورمتبرک ہیں آخر کار میں اس شہر پہنچ گیا جو زمین پر جنت ہے جہاں پر بادشاہ وقت اور ولیوں کے سردار بھی ننگے پاں چلنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں گنبد خضرا پر نظر پڑی تو رگوں میں برفیلی کستوری کی لہریں دوڑنے لگیں مجھے مکمل یقین تھا کہ یہاں پرمیرا خالی دامن قبولیت کے پھولوں سے بھر جائے گا نماز باجماعت اداکی روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کے پار دیکھنے کی سعادت حاصل ہو ئی ریاض الجنہ میں نوافل کی سعادت حاصل ہو ئی اصحاب صفہ کے پاں میں بیٹھنے کا اعزاز ملا گنبد خضرا کی چھاں تلے بیٹھا مدینہ کی گلیوں میں ننگے پاں میلوں چلا یہاں بھی دعا کا سلسلہ جاری تھا روزانہ سوالی بن کر بیٹھ جاتا کہ پتہ نہیں محبوب خدا کو کب مجھ سوالی پر رحم آئے ایک دن کسی نے کہا جنت البقیع میں جا کر سیدہ کائنات بی بی فاطمہ جگرگو شہ رسول ﷺ کو سلام کرو پھر آکر آقا کریم ﷺ کو درخواست دو میں ادب و احترام سے پلکوں پر چل کر سیدہ کائنات کی قبر مبارک کی طرف گیا دور سے سلام کیا سفارش کی درخواست کی اور آکر گنبد خضرا پر نظر جما کر بیٹھ گیا لمحے صدیوں میں بدلے یا صدیاں لمحوں میں بدلے پتہ نہیں میں کتنی دیر عالم محویت میں سبز گنبد پر نظریں جمائے بیٹھا رہا پھر میری آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب بہہ نکلا پتہ نہیں میں کتنی دیر تک بلک بلک کر بچوں کی طرح روتا رہا پھر میں نیم خوابیدگی کے عالم میں ڈوبتا گیا تو مجھے احساس ہوا چاروں طرف نور کے پھوارے پھوٹ رہے ہیں اورمیرے جسم و جان ان روشنیوں میں روشن ہو رہے ہیں میں کتنی دیر اس حالت میں رہا یاد نہیں پھر کسی نے میرا کندھا ہلا کر جگا دیاتو میں ہوش کی دنیا میں آگیا میں سن سا بیٹھا تھا حیران کن چیز یہ تھی کہ میرا کرب دکھ درد ختم ہو چکا تھا میرا جسم اب بھی مردوں والا ہی تھا لیکن بے قراری بے چینی ختم ہو چکی تھی میرا ادھورا پن ختم تھا میرا احساس ختم ہو گیا تھا اب میں آسودہ لگ رہا تھا میری وحشت بے قراری ختم ہو گئی تھی شایدمیری دعا کسی اور طرح سے قبول ہو گئی تھی میں آسودگی اطمینان کی دولت سے سرفراز ہو چکاتھا پھر میں مدینہ میں اپنی زندگی کے خوشگوار ترین دن گزار کر واپس پاکستان آگیا چیلوں نے پوچھا دعا قبول ہو ئی تو میں نے کہا ہاں ہو گئی چیلوں نے اعتراض کیاتم تو آج بھی مر د ہو لڑکی نہیں بنے تو میں کہتا اب میں پرسکون ہوں اب ادھورے پن کا احساس نہیں رہا ۔چیلوں نے اطمینان خوشی کی وجہ پوچھی تو میں نے مدینے میں ایک بزرگ نے جو ایمان افروز واقعہ بتا یا تھا وہ چیلوں کو بھی سنایا کہ ایک بار دلی شہر قحط کی لپیٹ میں آگیا ساری مخلوق دن رات بارش کی دعا کرتے لیکن دعا نہ ہو ئی تو لوگ حضرت نظام الدین اولیا کے گدی نشین کے پاس آئے کہ آپ بہت بڑے بزرگ کے گدی نشین ہیں آپ خدارا ہمارے شہر کے لیے دعا کریں تاکہ بارش ہو اور قحط سالی سے جان چھوٹ جائے تو گدی نشین نے اہل شہر کے ساتھ شہر سے باہر آکر بارش کے لیے نماز نفل پڑھے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے دیرتک لوگوں کے ساتھ مل کر بارش کی دعائیں کرتا رہا لیکن بارش نہ ہوئی تو شرمندہ شرمندہ سر جھکائے واپس شہر آگیا دن رات غمگین رہنے لگا کہ لوگوں کا درگاہ پر بہت یقین تھا جو اب ٹوٹ رہا ہے کاش خداہماری دعا سن لیتا تو ہمارا اور درگاہ کا بھرم اور عزت رہ جاتی گدی نشین کی پریشانی دیکھ کر ایک مرید قریب آیا اور بولا حضرت میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کی دعا اللہ تعالی قبول کر تا ہے دعا کے الفاظ اس کے لبوں سے پھسلتے ہیں تو دعا قبول ہو جاتی ہے اگر آپ اس سے دعا کرائیں تو بارش بھی ہو گی اورہماری عزت بھی بچ جائے گی گدی نشین فوری بولا کون ہے ایسا نیک انسان جو بارگاہ ِ الہی میں اتنا زیادہ مقبول ہے کہ خدا اس کی کوئی دعا بھی رد نہیں کرتاتو مرید بولا جناب وہ بد نام زمانہ محلے میں رہتا ہے اور وہ ایک مخنث یعنی ہیجڑا ہے گدی نشین غصے سے بولا یہ تم کیا کہہ رہے ہواس بد نام بازار میں ایک مخنث خدا کے حضور اتنا عزت والا ہے کہ خدا اس کی دعا رد نہیں کر تا تو مرید نے کہا جناب میں سچ کہہ رہا ہوں میں کئی ایسے چشم دید واقعات کا گواہ ہوں جب اس نے دعا کی تو فوری قبول ہوئی گدی نشین چند دن تو اِس کشمکش میں رہا کہ اتنی بڑی درگاہ کا گدی نشین اس بازار میں مخنث کے پاس جائے گا تو لوگ کیا کہیں گے لیکن پھر آخر کار ایک رات منہ پر چادر ڈال کر رات کے اندھیرے میں اس بازار میں اس نیک مخنث کے دروازے پر دستک دی نیک بندہ باہر آیا اور بولا آپ نیک بزرگ ہیں مجھ حقیر گناہ گار کے پا س کیا لینے آئے ہیں تو گدی نشین نے اپنی مشکل بتا دی تو وہ بولا دیکھیں جناب اگر میں آپ کے ساتھ دعا کے لیے گیا تو آپ کی عزت اور درگاہ پر حرف آئے گا اِ س لیے آپ میرے چولے کا دھاگا لے جائیں اور پھر جا کر دعا کریں اگر دعاقبول نہ ہو تو میرے چولے کے دھاگے کو جیب سے نکال کر بارگاہ الہی میں عرض کرنا اے خدا تیرے اس مخنث نے تیری رضا کا چولا جس دن سے پہنا ہے اس دن سے کوئی نافرمانی نہیں کی اگر اے خدا تجھے میری توبہ پسند آئی ہوتو تجھے میرے کپڑے کے دھاگے کی قسم بارش برسادے انشا اللہ بارش ہو گی گدی نشین صاحب نے دھاگا جیب میں ڈالا اگلے دن اہل شہر کے ساتھ پھر شہر سے باہر آکر بارش کی دعا کی جب بارش نہ ہو ئی تو جیب سے اس مخنث کے چولے کا دھا گا نکالا آسمان کی طرف کیا اور کہااے اللہ تجھے اپنے بندے کے چولے کے دھاگے کی قسم بارش برسادے ابھی گدی نشین کے ہاتھ ہوا میں ہی تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی گدی نشین اور اہل شہر نے بھاگ کر بارش سے جان بچائی ۔ یہ واقعہ سنا کر حاجی صاحب اپنے چیلوں سے بولا اب میں بھی خدا کے ہر حال میں خوش ہوں ۔ پھر چند دن بعد ہی حاجی صاحب کی زندگی میں ایک خاص واقعہ پیش آیا جب چیلوں کو کوڑے کے ڈھیر سے ایک لاوارث بچی ملی جو انہوں نے لاکر حاجی صاحب کو دے دی بچی کو دیکھ کر حاجی صاحب کے جسم سے ممتا کا آبشار ابل پڑا دن رات بچی کو ماں بن کر پالنا شروع کر دیا حاجی صاحب کے گھر والوں کو جب حاجی صاحب کی اِس تبدیلی کا پتہ چلا تو بھائیوں نے ایک مکان اور دو دوکانیں جو اِن کا حصہ تھا وہ حاجی صاحب کو دے دیں حاجی صاحب نے ان کو بیچا اور لاہور میں گھر اور دوکانیں خرید لیں جن کے کرائے سے اب وہ بچی کو پال رہے تھے بچی جوان ہوئی اسے یونیورسٹی میں داخل کرادیا وہاں پر بیٹی کے کلاس فیلو نے اسے پسند کیا لیکن گھر والوں نے انکار کر دیا اب ماں باپ کو منانے کے لیے حاجی صاحب بابوں کے پاس چکر لگاتے لگاتے میرے پاس آگئے حاجی صاحب جب بھی میرے پاس آتے میں خاص توجہ دیتا اور چھیڑتا حاجی ماں میرے پاس آئی ہے تو وہ خوش ہو تے بعد میں حاجی صاحب نے حج بھی کر لیا اس لیے لوگ اور برادری انہیں حاجی صاحب کہتے پتہ نہیں کس کی دعا قبول ہو ئی کہ بیٹی کو چاہنے والا لڑکاماں باپ کو منانے میں کامیاب ہو گیا حاجی صاحب یہ کریڈٹ مجھے دینے آئے تھے لہذا آج حاجی صاحب خوشی خوشی مٹھائی لے کر میرے پاس آئے تھے حاجی صاحب بار بارکہہ رہے تھے آپ شادی پر ضرور آنا میں گناہ گار چھوٹا کمینہ انسان ہوں لیکن مجھے اور میری بیٹی کو بہت خوشی ہو گی تو میں نے حاجی صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا حاجی صاحب فراڈ دھوکے باز جھوٹے بد دیانت چور ڈکیت حاجی تو بہت دیکھے لیکن اللہ کی قسم آج پہلی بار اصلی حقیقی حاجی صاحب سے ملا ہوں آپ جیسے لوگوں سے ہی معاشرے قائم ہیں ورنہ کب کے ہڑپہ موہنجودوڑو بن چکے ہو تے ۔






