بریکنگ نیوز
Loading news...
frint super lead lead 01 03 04 06 10

پاکستان–امریکہ تعلقات: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور امریکی سیاسی کونسلر کی اہم ملاقات

 پاکستان–امریکہ تعلقات: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور امریکی سیاسی کونسلر کی اہم ملاقات


اسلام آباد:امریکہ کی سیاسی کونسلر محترمہ شیلی ساکسن نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور پارلیمانی تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے ان تعلقات کو دیرینہ، ہمہ جہت اور باہمی احترام، مشترکہ مقاصد اور مستقبل کی جانب بڑھنے والے تعاون پر مبنی قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور پاکستانی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منڈی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اس وقت تقریباً 80 امریکی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں جو اندازاً ایک لاکھ بیس ہزار سے ایک لاکھ پچاس ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے امریکہ کو زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی، صحت، تعلیم اور دیگر ترجیحی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تجارت و سرمایہ کاری، آئی ٹی، توانائی و معدنیات، صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں ادارہ جاتی سطح پر مسلسل اور مؤثر تعاون کے ذریعے عملی پیش رفت کا خواہاں ہے۔ علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی نے اپریل تا مئی 2025 کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے فعال کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور اسٹریٹجک عزائم کے باعث پاکستان کے پاس اپنی اسٹریٹجک اور روایتی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ چیئرمین سینیٹ نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے افغان مہاجرین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے لیکن دنیا اس حقیقت کو فراموش کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ“افغان مہاجرین کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم اور اس سے قبل بطور اسپیکر قومی اسمبلی اپنے دور میں امریکی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو بھی یاد کیا۔ پارلیمانی سفارت کاری کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جمہوری اقدار اور مشترکہ امنگوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے اپریل 2025 میں امریکی کانگریس کے وفد کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمانی تبادلوں کے مزید فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گزشتہ ماہ منعقد ہونے والی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے بھی امریکی سیاسی کونسلر کو آگاہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع“امن، سلامتی اور ترقی”نہایت اہم اور بروقت تھا کیونکہ یہ تینوں عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان علاقائی و عالمی سطح پر امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ملاقات میں عوامی سطح پر روابط، ثقافتی تعلقات اور تعلیمی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ امریکی سیاسی کونسلر محترمہ شیلی ساکسن نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا اور سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں امریکہ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ باہمی شراکت داری اور مشترکہ مفادات کے جذبے کے تحت قریبی رابطے میں رہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کریں گے