بریکنگ نیوز
Loading news...
frint super lead lead 01 03 04 06 10

شہریت کا خاتمہ یا ریاستی تحفظ؟ شمیمہ بیگم کیس کا نیا موڑ

 شہریت کا خاتمہ یا ریاستی تحفظ؟ شمیمہ بیگم کیس کا نیا موڑ

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی - قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
 (بریڈفورڈ، انگلینڈ)

برطانوی حکومت نے شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت ختم کرنے کے فیصلے پر ایک بار پھر غیر متزلزل مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کا یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق میں مکمل اور بھرپور دفا کرے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی دباؤ یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں، انٹیلی جنس رپورٹس اور طویل قانونی عمل کے بعد کیا گیا تھا۔

ہوم آفس کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہوم سیکریٹری اس معاملے کو محض ایک فرد کی شہریت کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی اور عوامی تحفظ سے جڑا ایک نہایت حساس معاملہ سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، اور اس اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

شمیمہ بیگم کا کیس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق نے برطانوی حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کی مزید جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس کیس کو انسانی حقوق، ریاستی ذمہ داری اور قانونی دائرہ اختیار کے تناظر میں دیکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

برطانوی حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ شمیمہ بیگم کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کسی ایک مرحلے پر نہیں کیا گیا بلکہ اس پر برطانیہ کی مختلف عدالتوں میں بارہا غور ہو چکا ہے۔ حکومت کے مطابق عدالتِ عالیہ اور سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ عدالتی فورمز نے اس فیصلے کو قانونی اور آئینی بنیادوں پر درست قرار دیا۔

شمیمہ بیگم 2015 میں صرف 15 برس کی عمر میں مشرقی لندن سے شام روانہ ہوئیں، اس وقت شام میں شدت پسند تنظیم داعش کا کنٹرول تھا۔ ان کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کے لیے سنگین ثابت ہوا بلکہ بعد ازاں برطانوی ریاست کے لیے ایک پیچیدہ قانونی اور سکیورٹی مسئلہ بھی بن گیا۔

شام پہنچنے کے بعد شمیمہ بیگم نے ایک داعش جنگجو سے شادی کی اور کئی برس ایسے علاقوں میں گزارے جو شدت پسند تنظیم کے زیرِ اثر تھے۔ بعد میں داعش کے زوال کے بعد وہ شمالی شام کے ایک کیمپ میں پہنچ گئیں، جہاں سے ان کا معاملہ بین الاقوامی میڈیا اور قانونی حلقوں میں نمایاں ہوا۔

2019 میں برطانوی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے شمیمہ بیگم کی شہریت ختم کر دی کہ ان کی ممکنہ واپسی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ سکیورٹی خدشات کو روکنا تھا۔

حکام کے مطابق ایسے افراد جن کا ماضی شدت پسند تنظیموں سے جڑا رہا ہو، ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا خطرہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں معمولی سی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب شمیمہ بیگم کے وکلا اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ حکومت نے انسانی پہلوؤں کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ ان کے مطابق شمیمہ بیگم کم عمری میں انتہاپسند عناصر کے اثر میں آئیں اور ممکنہ طور پر ذہنی بہکاوے اور منظم نیٹ ورکس کا شکار ہوئیں۔
وکلا کا کہنا ہے کہ 15 سال کی عمر میں کسی فرد سے مکمل سیاسی اور نظریاتی شعور کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کے نزدیک ریاست کو چاہیے تھا کہ وہ شمیمہ بیگم کو محض ایک خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک ممکنہ متاثرہ فرد کے طور پر بھی دیکھتی۔

اسی تناظر میں یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق نے برطانوی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آیا اُس وقت کے حکومتی وزرا نے شمیمہ بیگم کے معاملے میں ان کی کم عمری اور ممکنہ ذہنی استحصال کے پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا یا نہیں۔

عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ آیا برطانیہ پر شمیمہ بیگم کے حوالے سے کوئی قانونی یا اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی، خاص طور پر اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ نابالغ تھیں جب انہوں نے ملک چھوڑا۔

یورپی عدالت کی دستاویزات کے مطابق شمیمہ بیگم نے انسانی حقوق کے قانون کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں آزادانہ فیصلے کا مکمل اختیار حاصل نہیں تھا اور وہ منظم انداز میں ذہنی طور پر متاثر کی گئی تھیں۔

تاہم برطانوی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں نے پہلے ہی ان نکات کا جائزہ لے کر ریاستی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق اجتماعی سلامتی کو انفرادی دعوؤں پر ترجیح دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کیسز میں نرمی برتی جائے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے، جس سے مستقبل میں شدت پسند عناصر کے لیے قانونی راستے کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ مقدمہ برطانیہ میں شہریت کے قوانین، قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن پر ایک وسیع تر بحث کو جنم دے چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر مختلف آرا رکھتی ہیں۔
کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق یورپی عدالت میں اس کیس کی سماعت مستقبل میں یورپ بھر میں شہریت سے متعلق پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں سکیورٹی خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔

دوسری جانب برطانوی حکومت واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یورپی عدالت کے سامنے تمام قانونی نکات، عدالتی فیصلے اور سکیورٹی شواہد پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ شہریت ختم کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر کیا گیا۔

یہ مقدمہ اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والا عدالتی عمل نہ صرف شمیمہ بیگم کے مستقبل بلکہ برطانیہ اور یورپ میں شہریت اور ریاستی اختیارات کے حوالے سے جاری بحث کی سمت کا بھی تعین کر سکتا ہے۔

فی الحال برطانوی حکومت اپنے فیصلے پر مضبوطی سے قائم ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ عوامی سلامتی اور ریاستی تحفظ پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی طویل اور سخت قانونی جنگ کیوں نہ لڑنی پڑے۔